دستور: جمعیت اطباء علماء پاکستان

(منظور شدہ: 10 فروری 2026)

تمہید (Preamble)

چونکہ پاکستان میں طبی اور شرعی علوم کا سنگم ناگزیر ہے، اور علماء اطباء کی ایک کثیر تعداد موجود ہونے کے باوجود منتشر ہے، لہٰذا ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور خلقِ خدا کی خدمت کے جذبے کے تحت اس تنظیم کا قیام عمل میں لاتے ہیں۔

دفعہ 1: نام اور دائرہ کار

  1. نام: اس تنظیم کا نام “جمعیت اطباء علماء پاکستان” ہوگا۔
  2. دائرہ کار: اس تنظیم کا دائرہ کار کل پاکستان (بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان) ہوگا۔
  3. مرکزی دفتر: تنظیم کا مرکزی دفتر (فی الحال) بانی و چیئرمین کی رہائش گاہ یا ان کی نامزد کردہ جگہ پر ہوگا۔

دفعہ 2: اغراض و مقاصد

  1. پاکستان بھر کے علماء و فضلاء اطباء کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
  2. قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو حکومتی سطح پر بطور مستقل طبی نظام تسلیم کروانے، اس کا باقاعدہ سرکاری نصاب منظور کروانے اور ماہرین کے لیے جداگانہ ڈپلومہ، رجسٹریشن اور لائسنس کے اجراء کے لیے بھرپور قانونی جدوجہد کرنا۔
  3. موجودہ چار سالہ طبی نصاب (FTJ) میں قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو بطور لازمی مضمون شامل کروانے کی کوشش کرنا۔
  4. وفاق المدارس اور مدارس کے دیگر تمام تعلیمی بورڈز کے نصاب میں قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کی تعلیم کو شامل کروانے کی جدوجہد کرنا تاکہ علماء دین طبی مہارت سے بھی آراستہ ہو سکیں۔
  5. درسِ نظامی (دورہ حدیث/شہادۃ العالمیہ) کی سند کو طبی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے بطور اہلیت (Equivalence) تسلیم کروانے کی قانونی راہ ہموار کرنا۔
  6. قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو سائنسی بنیادوں پر فروغ دینا اور مدارس میں اس کی علمی و عملی تربیت کا باقاعدہ اہتمام کرنا۔
  7. طب اور شریعت کے باہمی اشتراک سے پیدا ہونے والے جدید مسائل پر علمی و شرعی رہنمائی فراہم کرنا۔
  8. نیشنل کونسل فار طب اور ہیلتھ کیئر کمیشن جیسے اداروں میں اطباء علماء کے حقوق کا تحفظ کرنا اور ان کی نمائندگی کو یقینی بنانا۔

دفعہ 3: شرائطِ رکنیت (Membership)

کوئی بھی شخص درج ذیل شرائط پر تنظیم کا رکن بن سکتا ہے:

  1. وہ مستند عالمِ دین (فاضل درسِ نظامی) ہو یا دینی علوم سے گہرا تعلق رکھتا ہو۔
  2. وہ مستند طبیب (FTJ/BEMS) ہو یا طب کا پریکٹیشنر ہو۔
  3. وہ تنظیم کے دستور اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے اصولوں سے متفق ہو۔

دفعہ 4: تنظیمی ڈھانچہ (Organizational Structure)

تنظیم کا نظام تین سطحوں پر مشتمل ہوگا:

  1. مرکز (Central Body): جو پورے پاکستان کی پالیسی بنائے گی۔
  2. صوبہ (Provincial Body): چاروں صوبے بشمول کشمیر و گلگت بلتستان۔
  3. ضلع و تحصیل (District/Tehsil Body): مقامی یونٹس جو زمینی سطح پر کام کریں گے۔

مرکزی مجلسِ عاملہ (عہدیداران): مرکزی باڈی سپریم اتھارٹی ہوگی اور درج ذیل عہدوں پر مشتمل ہوگی:

  1. بانی و چیئرمین (لائف ٹائم / تاحیات)
  2. مرکزی صدر
  3. سینئر نائب صدر
  4. مرکزی ناظمِ اعلیٰ (General Secretary)
  5. جوائنٹ سیکرٹری
  6. مرکزی سیکرٹری مالیات (Finance Secretary)
  7. مرکزی سیکرٹری اطلاعات (Information Secretary)
  8. ناظمِ شعبہ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء)
  9. ناظمِ تعلیم و تحقیق
  10. سیکرٹری قانونی امور (Legal Affairs)

دفعہ 5: مرکزی عہدیداران کے فرائض و اختیارات

(الف) بانی و چیئرمین (حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ):

حیثیت: تنظیم کے روحانی و انتظامی سربراہ اور “سرپرستِ اعلیٰ”۔

اختیارات:

  1. تنظیم کے دستور اور نظریے کی حفاظت۔
  2. مرکزی کابینہ اور شوریٰ کے کسی بھی ایسے فیصلے کو “ویٹو” (Veto) کرنے کا اختیار جو تنظیم کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہو۔
  3. مرکزی صدر کی نامزدگی کی حتمی منظوری دینا۔
  4. آئین میں ترمیم کی حتمی اجازت دینا۔

(ب) مرکزی صدر:

حیثیت: تنظیم کے انتظامی سربراہ (Chief Executive)۔

فرائض:

  1. مرکزی کابینہ کے اجلاس طلب کرنا اور ان کی صدارت کرنا۔
  2. تمام ذیلی شعبوں (صوبائی و ضلعی) کی کارکردگی کی نگرانی کرنا۔
  3. حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کے ساتھ معاہدے کرنا (بانی کی مشاورت سے)۔

(ج) مرکزی ناظمِ اعلیٰ (General Secretary):

حیثیت: تنظیم کا “انجن” اور منتظم۔

فرائض:

  1. مرکزی دفتر (Secretariat) کا انتظام چلانا۔
  2. تمام ممبران کا ریکارڈ، اجلاسوں کی کارروائی (Minutes) اور قراردادیں محفوظ کرنا۔
  3. صوبائی اور ضلعی تنظیموں سے ماہانہ رپورٹ طلب کرنا۔
  4. صدر کی ہدایت پر تنظیمی دورے کرنا۔

(د) مرکزی سیکرٹری مالیات:

فرائض:

  1. تنظیم کے بیت المال (Funds) کا امین۔
  2. ممبرشپ فیس اور عطیات کا حساب کتاب رکھنا۔
  3. بینک اکاؤنٹس کو (صدر کے ساتھ مشترکہ دستخطوں سے) آپریٹ کرنا۔
  4. ہر چھ ماہ بعد شوریٰ کے سامنے مالیاتی رپورٹ پیش کرنا۔

(ہ) مرکزی سیکرٹری اطلاعات:

فرائض:

  1. تنظیم کا ترجمان۔
  2. پریس ریلیز جاری کرنا، سوشل میڈیا پیجز (فیس بک، ٹویٹر، ویب سائٹ) کو اپ ڈیٹ رکھنا۔
  3. میڈیا میں تنظیم کا موقف مؤثر انداز میں پیش کرنا۔

(و) ناظمِ شعبہ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء):

فرائض:

  1. قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے فروغ کے لیے نصاب ترتیب دینا۔
  2. ملک بھر میں طبی ورکشاپس اور ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کرنا۔
  3. مدارس کے طلباء کے لیے خصوصی کورسز ڈیزائن کرنا۔

(ز) ناظمِ تعلیم و تحقیق:

فرائض:

  1. درسِ نظامی کی اسناد کے “معادلہ” (Equivalence) کے لیے ایچ ای سی اور طبی کونسل سے رابطہ رکھنا۔
  2. اطباء کے لیے جدید طبی ریسرچ پیپرز فراہم کرنا۔

دفعہ 6: صوبائی و ضلعی ڈھانچہ

(الف) صوبائی تنظیم:

ہر صوبے کی باڈی مرکز کے تابع ہوگی۔

صوبائی صدر: صوبے میں تنظیم کا سربراہ۔ مرکز کے فیصلوں کو صوبے میں نافذ کرے گا۔

صوبائی ناظمِ اعلیٰ: صوبائی دفتر اور اضلاع کے ساتھ رابطے کا ذمہ دار۔

دیگر عہدے: صوبائی سطح پر بھی مالیات، اطلاعات اور طبِ پاکستانی کے سیکرٹریز ہوں گے۔

(ب) ضلعی تنظیم:

یہ سب سے اہم اور بنیادی یونٹ ہے۔

ضلعی صدر: ضلع میں اطباء کو درپیش مسائل (ہیلتھ کمیشن، ڈرگ انسپکٹر وغیرہ) کے حل کے لیے فرنٹ لائن پر ہوگا۔

ضلعی ناظمِ اعلیٰ: ضلع بھر کے حکیم علماء کا ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور ممبرشپ مہم چلائے گا۔

تحصیل صدور: ضلعی صدر کی مشاورت سے تحصیل کی سطح پر ذمہ داران مقرر کیے جائیں گے۔

دفعہ 7: میعادِ عہدہ (Term of Office)

  1. بانی و چیئرمین: تاحیات (Life Time)۔
    1. منتخب عہدیداران: تمام منتخب عہدیداران (صدر، ناظم وغیرہ) کی مدت 3 سال ہوگی۔ اس کے بعد دوبارہ انتخاب یا نامزدگی ہوگی۔

دفعہ 8: مالیات (Finance)

  1. تنظیم کے اخراجات ممبرشپ فیس اور مخیر حضرات کے عطیات سے پورے کیے جائیں گے۔
  2. تنظیم کا بینک اکاؤنٹ “مرکزی صدر” اور “سیکرٹری مالیات” کے مشترکہ دستخطوں سے کھلے گا اور چلے گا۔

دفعہ 9: تادیبی کارروائی (Discipline)

اگر کوئی عہدیدار یا رکن تنظیم کے مقاصد کو نقصان پہنچائے یا دستور کی خلاف ورزی کرے، تو مرکزی شوریٰ کی مشاورت اور بانی و چیئرمین کی منظوری سے اس کی رکنیت منسوخ کی جا سکے گی۔

دفعہ 10: ترمیم (Amendment)

دستور کی کسی بھی شق میں تبدیلی کے لیے مرکزی شوریٰ کی دو تہائی (2/3) اکثریت اور بانی و چیئرمین کی تحریری اجازت ضروری ہوگی۔

دستخط بانی و چیئرمین: ___________________ حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ تاریخ: 10 فروری 2026