یہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہماری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ حکیم علماء ہی ہوتے تھے، پھر چند سال
پہلے کومت پاکستان نے ایسے قوانین متعارف کروائے جن سے علماء کے لیے طب کا دروازہ بند ہو
گیا،مثلا میٹرک سائنس کی شرط عائد کرنا۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سولہ سترہ سال کا بچہ جس نے فریش میٹرک سائنس کی ہو اسے تو طبیہ
کالجز میں داخلہ مل جاتا ہے، لیکن دوسرا وہ شخص جس نے میٹرک آرٹس میں کی ہے، پھر اس کے بعد آٹھ
سالہ درس نظامی کیا، یا ایف اے، بی اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگری حاصل کرلی اسے
داخلہ نہیں دیا جاتا۔ گویا قانون کی پیچیدگی یہ بتارہی ہوتی ہے کہ سولہ سال کا بچہ جو میٹرک
سائنس ہے وہ ایم اے اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر سے زیادہ اہل ہے کہ طبیہ کالج میں داخلہ لے کر علم طب
سیکھ سکے۔
