تازہ ترین
خبریں لوڈ ہو رہی ہیں…

جمعیت اطباء العلماء پاکستان

Jamiat Atibba Ulama Pakistan

طب و شریعت کا حسین امتزاج، خدمتِ خلق کا عظیم مشن

قابلِ صد احترام حکیم علماء کرام!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ خلقِ خدا کی جسمانی صحت کی حفاظت (طب) جیسے عظیم شعبے

سے وابستہ کیا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی انفرادی کوششوں کو ایک منظم قوت میں بدلیں۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ تمام حضرات “جمعیت اطباء العلماء پاکستان” کا حصہ بنیں تاکہ ہم مل کر ایک ایسی

مضبوط آواز بن سکیں جو حکومتی ایوانوں میں تسلیم کی جائے اور طب و شریعت کی خدمت کو مزید منظم کیا

جاسکے۔

حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ

حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ

بانی و چیئرمین: جمعیت اطباء العلماء پاکستان

یہ ضرورت کیوں پیش آئی؟

یہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہماری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ حکیم علماء ہی ہوتے تھے، پھر چند سال

پہلے کومت پاکستان نے ایسے قوانین متعارف کروائے جن سے علماء کے لیے طب کا دروازہ بند ہو

گیا،مثلا میٹرک سائنس کی شرط عائد کرنا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سولہ سترہ سال کا بچہ جس نے فریش میٹرک سائنس کی ہو اسے تو طبیہ

کالجز میں داخلہ مل جاتا ہے، لیکن دوسرا وہ شخص جس نے میٹرک آرٹس میں کی ہے، پھر اس کے بعد آٹھ

سالہ درس نظامی کیا، یا ایف اے، بی اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگری حاصل کرلی اسے

داخلہ نہیں دیا جاتا۔ گویا قانون کی پیچیدگی یہ بتارہی ہوتی ہے کہ سولہ سال کا بچہ جو میٹرک

سائنس ہے وہ ایم اے اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر سے زیادہ اہل ہے کہ طبیہ کالج میں داخلہ لے کر علم طب

سیکھ سکے۔

Jamiat Atibba Ulama Pakistan

ہمارا ہدف

درس نظامی کی آخری سند (شہادۃ العالیہ) کی بنیاد پر طبیہ کالجز میں داخلہ آسان بنایا جائے اور حکومت سے یہ منظور کروایا جائے کہ مدارس کے فاضلین کو طبیہ کالجز میں داخلے ملیں۔ سرکاری طب کونسل، وزارت صحت اور حکومت کو ان مسائل کی طرف متوجہ کرنا اور حکیم علماء، اور مدارس کے طلباء کے حق کے لیے یہ جدوجہد کرنا ہمارا مقصد ہے۔

تنظیمی مقاصد (Aims & Objectives)

اسلامی تاریخ میں اطباء اور علماء دو الگ گروہ نہیں تھے، بلکہ علمائے دین ہی انسانیت کی جسمانی شفا کے ضامن (طبیب) ہوا کرتے تھے۔

اتحادِ اطباء العلماء

پاکستان بھر کے ان تمام اطباء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا جو دینی علوم (درسِ نظامی) کے فضلاء ہیں، تاکہ ایک بااثر اور منظم قوت پیدا کی جا سکے۔

تعلیمی اصلاحات

نیشنل کونسل فار طب اور وزارتِ صحت سے یہ مطالبہ منوانا کہ “شہادۃ العالمیہ” کو طبیہ کالجز میں داخلے کے لیے ایف ایس سی کے مساوی درجہ دیا جائے۔

فروغِ طبِ پاکستانی

قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو بطور سائنسی نظریہ مدارس اور جدید تعلیمی حلقوں میں متعارف کروانا اور اسے حکومتی سطح پر منوانا۔

منشور اور لائحہ عمل

  • علمی وقار کی بحالی: طب کسی خاص سرٹیفکیٹ
  • کی محتاج نہیں بلکہ “ذہنی استعداد” کی مرہونِ منت ہے۔ ہم علماء کے اس حق کو چھیننےنہیں دیں
  • گے۔
  • تعلیمی پالیسی میں لچک: جوطالب علم درسِ
  • نظامی کے 8 سال مکمل کر چکا ہے، اسے طب کی تعلیم میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ ملنا چاہیے۔
  • میڈیکل اخلاقیات: ہسپتالوں اور کلینکس میں
  • اسلامی اخلاقیات اور ہمدردی کے جذبے کو ملحوظِ خاطر رکھنا۔
  • تربیتی ورکشاپس: طبیب علماء کے لیے جدید
  • طبی آلات اور قانون مفرد اعضاء کی خصوصی تربیتی و تعلیمی نشستوں کا انعقاد کرنا۔

عملی اقدامات

1

نیشنل کونسل فار طب کے اراکین اور حکومتی حکام سے ملاقاتوں کے لیے اعلیٰ سطح وفد کی تشکیل۔

2

قانونی ماہرین کے ذریعے عدالتِ عالیہ میں تعلیمی تضادات کے خلاف چارہ جوئی۔

3

مدارس کے طلباء کے لیے حکومتی ایوانوں میں اطباء العلماء کی مضبوط نمائندگی کو یقینی بنانا۔

4

نیشنل کونسل فار طب اور وزارتِ صحت سے یہ مطالبہ منوانا کہ شہادت عالیہ کی سند پر طبیہ کالجز میں داخلہ دیا جائے۔

5

پاکستان بھر کے ان تمام اطباء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا جو دینی علوم (درسِ نظامی) کے فضلاء ہیں، تاکہ ایک بااثر اور منظم قوت پیدا کی جا سکے۔

6

مدارس دینیہ میں مختصر طبی کورسز کروانے کے علاوہ عملی طور پر طبی کتاب کو نصاب کا حصہ بنانا۔

عہدیداران و ممبران

مرکزی باڈی

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

خیبر پختونخوا

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

پنجاب

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

سندھ

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

بلوچستان

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

آزاد کشمیر

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

گلگت بلتستان

ڈیٹا لوڈ ہو رہا ہے…

تازہ ترین تحریریں

پوسٹس لوڈ ہو رہی ہیں…

تازہ ترین ویڈیوز

ویڈیوز لوڈ ہو رہی ہیں…

رکنیت فارم

آئیں! اس قافلے کا حصہ بنیں اور اپنی تفصیلات جمع کرائیں۔ آپ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ضلعی و صوبائی تنظیم سازی کی جائے گی۔

ابھی آن لائن رکنیت فارم پُر کریں
×