Jamiat Atibba Ulama Pakistan
جمعیت اطباء علماء پاکستان
جمعیت کا ہے یہ نعرہ — تندرست ہو ملک ہمارا
عالم بھی ہیں، طبیب بھی — ہم خادمِ خلقِ حبیبؐ بھی
حق کی صدا، شفاء کا کام — جمعیت اطباء علماء پاکستان
علم و حکمت کا سنگم — انسانیت کی خدمت کا عزم
جمعیت اطباء علماء پاکستان۔ اغراض و مقاصد
دفعہ 2: اغراض و مقاصد
5. درسِ نظامی (دورہ حدیث/شہادۃ العالمیہ) کی سند کو طبی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے بطور اہلیت (Equivalence) تسلیم کروانے کی قانونی راہ ہموار کرنا۔
6. قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو سائنسی بنیادوں پر فروغ دینا اور مدارس میں اس کی علمی و عملی تربیت کا باقاعدہ اہتمام کرنا۔
7. طب اور شریعت کے باہمی اشتراک سے پیدا ہونے والے جدید مسائل پر علمی و شرعی رہنمائی فراہم کرنا۔
8. نیشنل کونسل فار طب اور ہیلتھ کیئر کمیشن جیسے اداروں میں اطباء علماء کے حقوق کا تحفظ کرنا اور ان کی نمائندگی کو یقینی بنانا۔
دفعہ 2: اغراض و مقاصد
1. پاکستان بھر کے علماء و فضلاء اطباء کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
2. قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو حکومتی سطح پر بطور مستقل طبی نظام تسلیم کروانے، اس کا باقاعدہ سرکاری نصاب منظور کروانے اور ماہرین کے لیے جداگانہ ڈپلومہ، رجسٹریشن اور لائسنس کے اجراء کے لیے بھرپور قانونی جدوجہد کرنا۔
3. موجودہ چار سالہ طبی نصاب (FTJ) میں قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو بطور لازمی مضمون شامل کروانے کی کوشش کرنا۔
4. وفاق المدارس اور مدارس کے دیگر تمام تعلیمی بورڈز کے نصاب میں قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کی تعلیم کو شامل کروانے کی جدوجہد کرنا تاکہ علماء دین طبی مہارت سے بھی آراستہ ہو سکیں۔
تنظیمی ڈھانچہ جمعیت اطباء علماء پاکستان
دفعہ 4: تنظیمی ڈھانچہ
مرکزی مجلسِ عاملہ (عہدیداران): مرکزی باڈی سپریم اتھارٹی ہوگی اور درج ذیل عہدوں پر مشتمل ہوگی:
1. بانی و چیئرمین (لائف ٹائم / تاحیات)
2. مرکزی صدر
3. سینئر نائب صدر
4. مرکزی ناظمِ اعلیٰ (General Secretary)
5. جوائنٹ سیکرٹری
6. مرکزی سیکرٹری مالیات (Finance Secretary)
7. مرکزی سیکرٹری اطلاعات (Information Secretary)
8. ناظمِ شعبہ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء)
9. ناظمِ تعلیم و تحقیق
10. سیکرٹری قانونی امور (Legal Affairs)
دفعہ 4: تنظیمی ڈھانچہ
تنظیم کا نظام تین سطحوں پر مشتمل ہوگا:
1. مرکز (Central Body): جو پورے پاکستان کی پالیسی بنائے گی۔
2. صوبہ (Provincial Body): چاروں صوبے بشمول کشمیر و گلگت بلتستان۔
3. ضلع و تحصیل (District/Tehsil Body): مقامی یونٹس جو زمینی سطح پر کام کریں گے۔
دفعہ 5: مرکزی عہدیداران کے فرائض و اختیارات
(ج) مرکزی ناظمِ اعلیٰ (General Secretary):
حیثیت: تنظیم کا “انجن” اور منتظم۔
فرائض:
1. مرکزی دفتر (Secretariat) کا انتظام چلانا۔
2. تمام ممبران کا ریکارڈ، اجلاسوں کی کارروائی (Minutes) اور قراردادیں محفوظ کرنا۔
3. صوبائی اور ضلعی تنظیموں سے ماہانہ رپورٹ طلب کرنا۔
4. صدر کی ہدایت پر تنظیمی دورے کرنا۔
(ب) مرکزی صدر:
حیثیت: تنظیم کے انتظامی سربراہ (Chief Executive)۔
فرائض:
1. مرکزی کابینہ کے اجلاس طلب کرنا اور ان کی صدارت کرنا۔
2. تمام ذیلی شعبوں (صوبائی و ضلعی) کی کارکردگی کی نگرانی کرنا۔
3. حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کے ساتھ معاہدے کرنا (بانی کی مشاورت سے)۔
(الف) بانی و چیئرمین (حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ):
حیثیت: تنظیم کے روحانی و انتظامی سربراہ اور “سرپرستِ اعلیٰ”۔
اختیارات:
1. تنظیم کے دستور اور نظریے کی حفاظت۔
2. مرکزی کابینہ اور شوریٰ کے کسی بھی ایسے فیصلے کو “ویٹو” (Veto) کرنے کا اختیار جو تنظیم کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہو۔
3. مرکزی صدر کی نامزدگی کی حتمی منظوری دینا۔
4. آئین میں ترمیم کی حتمی اجازت دینا۔
(ز) ناظمِ تعلیم و تحقیق:
فرائض:
1. درسِ نظامی کی اسناد کے “معادلہ” (Equivalence) کے لیے ایچ ای سی اور طبی کونسل سے رابطہ رکھنا۔
2. اطباء کے لیے جدید طبی ریسرچ پیپرز فراہم کرنا۔
(و) ناظمِ شعبہ طبِ پاکستانی (قانون مفرد اعضاء):
فرائض:
1. قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے فروغ کے لیے نصاب ترتیب دینا۔
2. ملک بھر میں طبی ورکشاپس اور ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کرنا۔
3. مدارس کے طلباء کے لیے خصوصی کورسز ڈیزائن کرنا۔
(ہ) مرکزی سیکرٹری اطلاعات:
فرائض:
1. تنظیم کا ترجمان۔
2. پریس ریلیز جاری کرنا، سوشل میڈیا پیجز (فیس بک، ٹویٹر، ویب سائٹ) کو اپ ڈیٹ رکھنا۔
3. میڈیا میں تنظیم کا موقف مؤثر انداز میں پیش کرنا۔
(د) مرکزی سیکرٹری مالیات:
فرائض:
1. تنظیم کے بیت المال (Funds) کا امین۔
2. ممبرشپ فیس اور عطیات کا حساب کتاب رکھنا۔
3. بینک اکاؤنٹس کو (صدر کے ساتھ مشترکہ دستخطوں سے) آپریٹ کرنا۔
4. ہر چھ ماہ بعد شوریٰ کے سامنے مالیاتی رپورٹ پیش کرنا۔
دفعہ 6: صوبائی و ضلعی ڈھانچہ
(ب) ضلعی تنظیم: یہ سب سے اہم اور بنیادی یونٹ ہے۔
ضلعی صدر: ضلع میں اطباء کو درپیش مسائل (ہیلتھ کمیشن، ڈرگ انسپکٹر وغیرہ) کے حل کے لیے فرنٹ لائن پر ہوگا۔
ضلعی ناظمِ اعلیٰ: ضلع بھر کے حکیم علماء کا ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور ممبرشپ مہم چلائے گا۔
تحصیل صدور: ضلعی صدر کی مشاورت سے تحصیل کی سطح پر ذمہ داران مقرر کیے جائیں گے۔
دفعہ 8: مالیات
1. تنظیم کے اخراجات ممبرشپ فیس اور مخیر حضرات کے عطیات سے پورے کیے جائیں گے۔
2. تنظیم کا بینک اکاؤنٹ “مرکزی صدر” اور “سیکرٹری مالیات” کے مشترکہ دستخطوں سے کھلے گا اور چلے گا۔
دفعہ 6: صوبائی و ضلعی ڈھانچہ
(الف) صوبائی تنظیم:
ہر صوبے کی باڈی مرکز کے تابع ہوگی۔
صوبائی صدر: صوبے میں تنظیم کا سربراہ۔ مرکز کے فیصلوں کو صوبے میں نافذ کرے گا۔
صوبائی ناظمِ اعلیٰ: صوبائی دفتر اور اضلاع کے ساتھ رابطے کا ذمہ دار۔
دیگر عہدے: صوبائی سطح پر بھی مالیات، اطلاعات اور طبِ پاکستانی کے سیکرٹریز ہوں گے۔
دفعہ 7: میعادِ عہدہ
1. بانی و چیئرمین: تاحیات (Life Time)۔
a. منتخب عہدیداران: تمام منتخب عہدیداران (صدر، ناظم وغیرہ) کی مدت 3 سال ہوگی۔ اس کے بعد دوبارہ انتخاب یا نامزدگی ہوگی۔
دفعہ 3: شرائطِ رکنیت
کوئی بھی شخص درج ذیل شرائط پر تنظیم کا رکن بن سکتا ہے:
1. وہ مستند طبیب (FTJ/BEMS) ہو یا طب کا پریکٹیشنر ہو۔
2. وہ تنظیم کے دستور اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کے اصولوں سے متفق ہو۔
ممبر بننے کے لیے نیچے بٹن پر کلک کریں۔
